کشن گنج، 19؍مارچ(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا ) اترپردیش میں نئے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ منتخب کرکے بی جے پی نے اپنے اصل ایجنڈہ پر عمل کرنے کا واضح اشارہ کردیا ہے جس سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ بی جے پی اپنے ہندتو کے منصوبے پر عمل کررہی ہے۔ اس کا اظہار معروف عالمِ دین اور ممبر پارلیمنٹ مولانا اسرار الحق قاسمی نے یوپی انتخابات کے نتائج اور بھگوائی فرقہ پرست ذہنیت کے حامل وزیر اعلیٰ کے انتخاب پراخبار نویسوں کے ذریعے کیے گئے سوال کے جواب میں کیا۔ واضح رہے مولانا موصوف اِن دنوں اپنے حلقہ انتخاب کے ترقیاتی کاموں اور مختلف سماجی و اصلاحی پروگرام میں شرکت کے لیے کشن گنج کے دورے پر ہیں۔
مولانا قاسمی نے کہا کہ یوگی جیسے شخص کو جو اپنے انتہاپسندانہ طرز عمل خاص طور سے اسلام اور مسلم مخالفت بیانات کے لیے بدنام ہیں وزیر اعلیٰ منتخب کیا جانا تشویش ناک ہے۔ مولانا موصوف نے کہا کہ اس سے واضح ہوگیا ہے کہ بی جے پی نے انتخابی مہم کے دوران ترقیاتی نعروں کے ذریعے عوام کو گمراہ کیا تھا اور اب وہ مسلمانوں کے خلاف ہندوؤں کو بھڑکاکر نفرت پھیلانے کے اپنے اصل منصوبے پر عمل پیرا ہوگئی ہے۔ مولانا نے کہا کہ ملک کے ایک اہم ترین صوبے کی حکومت سنبھالنے کے بعد آدتیہ ناتھ کے رویے میں کوئی تبدیلی آئے گی اور وہ سب کے ساتھ انصاف کی روش پر چلیں گے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ تاہم مولانا نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مایوسی کا شکار نہ ہوں۔ انھوں نے کہا کہ مسلمان اللہ کی نصرت اور عنایت پر بھروسہ کرنے والی قوم ہیں۔ کسی انسان یا نظریے سے ڈرنے کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔ انھو ں نے کہا کہ اس موقع پر ہمیں اپنے ایمان و عمل کو مضبوط کرنے کی فکر کرنی چاہیے اور اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کی عملی کوشش کرنی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ الیکشن کے دوران مسلمان منتشر رہے جس کے نتیجے میں فسطائی طاقتوں کو اقتدار پرمکمل کنٹرول حاصل ہوگیاہے اور وہ اس حد تک بے خوف ہوگئے ہیں کہ یوگی جیسے ہندتو چہرہ کو بھی وزیر اعلیٰ بنانے سے گریز نہیں کررہے ہیں۔ لہٰذا اولین ضرورت یہ ہے کہ کہ مسلمان متحد ہوں۔ اپنی نئی نسل کی ایمانی تربیت کرنی چاہیے۔ اپنے معاشرے کو اسلامی رنگ میں بھرنا چاہیے اور برادرانِ وطن سے روابط مضبوط بنانے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے۔ مولانا قاسمی نے کہا کہ اس طرح ہم اسلام کا تعارف کراسکیں گے اور برادران وطن کی غلط فہمیوں کا ازالہ ہوسکے گا۔ مولانا نے کہا کہ سیاسی سطح پر ہمیں یہ کوشش مسلسل کرنی ہوگی کہ وطنی بھائیوں کو سمجھایا جائے کہ ملک کی ترقی اور سماج کا استحکام باہمی بھائی چارہ سب کی ترقی اور سب کے ساتھ انصاف ہی میں مضمر ہے۔ نفرت کی سیاست سماج کو تقسیم اورکمزورکرتی ہے جس کی وجہ سے ملک کی ترقی کی رفتارمیں رکاوٹ پیدا ہوجائے گی۔